تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| قرآن مجید کی تلاوت کے بعد کہا جانے والا جملہ ’’صدق الله العلی العظیم‘‘ ایک بامعنی کلمہ ہے، جس کا مفہوم ہے: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے۔
اس جملے میں لفظ ’’العلی‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جس کے معنی ہیں بلند و برتر۔ اس کا حضرت علیؑ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ کوئی اس لفظ سے حضرت علیؑ مراد لیتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے حضرت علیؑ کے نام کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اس جملے میں لفظ ’’العلی‘‘ سے حضرت علیؑ مراد ہیں، تو یہ محض ایک خود ساختہ مفروضہ ہے، جس کی نہ لغت تائید کرتی ہے، نہ عقیدہ اور نہ ہی عقلِ سلیم۔
حضرت علیؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، رسول اللہؐ کے بعد ہمارے امام، ہادی اور رہبر ہیں۔ ان کی ولایت اور محبت ہمارے ایمان کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ہم انہیں خدا نہیں، بلکہ خدا کا بندہ اور رسول اللہؐ کے بعد اپنا امام مانتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی لفظ کو حذف کرنے یا اللہ تعالیٰ کی صفات سے گریز کرنے کی ضرورت نہیں۔
افسوس اس بات پر ہے کہ بعض لوگ بغضِ علیؑ میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایک واضح صفت کو بھی مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے خود ایک بے بنیاد مفہوم گھڑتے ہیں، پھر اسی مفہوم کو بنیاد بنا کر لفظ ’’العلی‘‘ حذف کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ حالاں کہ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی لفظ کا مفہوم اس کے لغوی معنی اور سیاق و سباق کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ اپنی نفرت اور تعصب کے مطابق اس کی تشریح کی جائے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ’’العلی‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، تو اسے حذف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا کسی کے خود ساختہ اعتراض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ترک کر دیا جائے؟ اگر یہی اصول اختیار کر لیا جائے تو تعصب رکھنے والا ہر شخص اپنی پسند و ناپسند کے مطابق دینی الفاظ اور اصطلاحات کو بدلنے کا مطالبہ کرنے لگے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بلندی و عظمت کا اقرار اور حضرت علیؑ کی ولایت و امامت پر ایمان دو الگ حقیقتیں نہیں، بلکہ اپنے اپنے مقام پر واضح اور مسلم عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ خالق و معبود ہے اور حضرت علیؑ اس کی مخلوق اور بندے ہیں جو ہمارے لیے ھادی اور امام ہیں۔ ان دونوں کے مقام و مرتبے میں فرق واضح ہے اور کوئی صاحبِ علم ان دونوں کو خلط ملط نہیں کرتا۔
لہٰذا ’’صدق اللہ العلی العظیم‘‘ میں لفظ ’’العلی‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، حضرت علیؑ کا نام نہیں۔ اسے حضرت علیؑ سے جوڑنا اور پھر اسی مفروضے کی بنیاد پر حذف کرنا علمی استدلال نہیں، بلکہ ایک خود ساختہ اعتراض ہے، جس سے حضرت علی سے بغض ظاہر ہوتا ہے ۔
دین کو سمجھنے کے لیے تعصب نہیں، علم چاہیے؛ الفاظ کو سمجھنے کے لیے بدگمانی نہیں، لغت اور عقل چاہیے۔ اور اگر کسی لفظ سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و برتری بیان ہوتی ہو، تو محض بغضِ علیؑ کی وجہ سے اس لفظ کو حذف کرنے کی کوشش نہ دینی غیرت ہے، نہ علمی دیانت۔










آپ کا تبصرہ